MAA BAAP KI ROOH GHAR KYUN AATI HAI | Rohain Kab Ghar Wapis | Ati Hain  Hazrat Ali RA
Rohain Kab Ghar Wapis 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کروڑ ہا درود وسلام نبی پاک ﷺکی ذات اقدس پر۔

شا جی انفو دیکھنے والے تمام دوست  احباب کو السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

معزز ناظرین کرام!حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی محفل میں لوگ اکثر سوال کیا کرتے تھے ،جو کہ مختلف موضوعات کے حوالے سے ہوا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس مسجد میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے جن میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ بھی تشریف فرما تھے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا کہ کیا فوت ہونے کے بعد بھی ماں باپ کی روحیں اپنے گھر لوٹتی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا ارشاد فرمایا۔ آج ہم آپ کو اس کے بارے میں بتائیں گے اور یہ بھی بتائیں کہ ماں باپ کی روحیں کس دن گھر پر آتی ہیں۔ہماری اس کاوش کو صدقہ جاریہ کی نیت سے اپنے سوشل میڈیا دوستوں کےساتھ ضرور شئیر کردیں۔کیونکہ اچھی بات کوپھیلانا صدقہ ہے۔پیارے دوستو سب سے پہلے آپ کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا جواب بتاتے ہیں اور پھر آپ کو روح کی آزادانہ حرکت کرنے کے بارے میں بھی چند روایات  بتائیں گے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کے سوال کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اے سلمان یاد رکھو جب والدین فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی روحیں اپنے گھر اپنے بچوں کے پاس آتی ہیں۔ اپنی اولاد سے فریاد کرتی ہیں ، اور وہ اپنی اولاد سے یہ سوال کرتی ہیں کہ صدقات اور نیک اعمال کے ذریعہ ان پر مہربانی کریں۔ وہ ان  سے اپنے لئے دعاؤں کے لئے سوال کرتی ہیں، تو اس پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ماں باپ کی روحیں کیوں  واپس لوٹتی ہیں،آپ نے فرمایا کہ جب ماں باپ فوت ہو جاتے ہیں تو ان کا اپنا اعمال نامہ  بند ہو جاتا ہے۔ مرنے کے بعد وہ اپنی اولاد اور اپنے رشتے داروں کے محتاج ہو جاتے ہیں، کہ کوئی ان کے نام پر صدقہ کرے، کوئی ان کیلئے نیک اعمال کرکے ایصالِ ثواب کردے تاکہ ان کے درجات بلند ہو سکیں، یا ان کے عذاب میں ان کی وجہ سے کمی ہو سکے یہی وجہ ہے کہ ماں باپ کی روحیں گھر لوٹتی ہیں، اور فریاد کرتی ہیں کہ انہیں بھی دعاؤں میں یاد کیا جائے ،ان کے لیے اچھےاعمال کیے جائیں، اور صدقہ کیا جائے۔ حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوبارہ پوچھا کہ یہ روحیں  کب کب اپنے گھروں کو لوٹتی ہیں ۔تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ارواح ہفتے میں ایک دن اپنے گھروں کو لوٹتی ہیں اور وہ دن جمعرات کا ہے یعنی جمعے کی رات کو یہ روحیں اپنے گھروں میں آتی ہیں ،اور چیخ چیخ کر اپنوں کو پکارتی  ہیں ۔ لیکن جو لوگ زندہ ہیں ان کی آواز یں نہیں سن سکتے،وہ  اپنے دنیاوی کاموں میں مگن رہتے ہیں لہذا یہ  روحیں  اسی طرح سے مایوس ہو کر لوٹ  جاتی ہیں ۔ سوائے ان کے جن کی اولاد نیک ہو اور اپنے والدین کے لئے اعمال ہدیہ کرے اور ان کے لیے دعا کرے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اے سلمان یاد رکھنا اپنے مرحومین کے لیے دعا کرتے رہنا۔ جب کوئی اپنے مرحوم والدین کے لئے دعا کرتا ہے تو ان کی روحیں اللہ سے فریاد کرتی ہیں کہ یا اللہ جس طرح ہماری اولاد نے ہمارے اوپر احسان کیا ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد کیا تو ان پر بھی رحم فرما ان کی پریشانیوں کو ختم فرما ،اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کر۔ ناظرین یہ تھا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان جس سے واضح ہوتا ہے کہ ارواح  جمعرات کو اپنے گھروں کو لوٹتی  ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک اور روایت بھی ہے کہ ایک مرتبہ حضر ت علی رضی اللہ عنہ مسجد میں اداس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے اور آپ سے پوچھنے لگے کہ میں آپ کو افسردہ دیکھ رہا ہوں تو  آپ فرمانے لگے  اے سلمان میں اس لیے اداس ہوں کہ آج میں نے ایک ماں کی روح کو اپنی اولاد کے گھر پر روتے ہوئے دیکھا ہے وہ اپنی اولاد سے فریاد کر رہی تھی، اس کی آہوبکا ہ سن کر میں پریشان ہوں، وہ اپنی اولاد سے یہ سوال کر رہی تھی کہ صدقات اور نیک اعمال کے ذریعہ میرے  اوپر مہربانی کرو ،مجھے اپنی دعاؤں میں یاد کرو۔ تو اس پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا"اے  علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا مرنے کے بعد ماں کی روح بھی  واپس لوٹتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہاں جب ماں باپ فوت ہو جاتے ہیں تو ان کا اپنا اعمال نامہ بند ہو جاتا ہے، مرنے کے بعد وہ  اپنی اولاد اور اپنے رشتے داروں کے محتاج ہو جاتے ہیں،  کوئی ان کے نام پر صدقہ کر لے کوئی ان کیلئے نیک عمل کر کے ایصال ثواب کردے تاکہ ان کے درجات بلند ہو سکیں۔ یا ان کے عذاب  میں ان کی وجہ سے کمی ہو سکے، یہی وجہ ہے کہ ماں باپ کی ارواح گھر لوٹتی ہیں اور فریاد کرتی ہیں کہ انہیں بھی دعاؤں میں یاد کیا جائے۔ پیا رے دوستو ہمیں یہ معلوم ہوا کہ والدین کے لئے ان کی وفات کے بعد دعا ضرور کرنی چاہیے، اور ان کو اعمال ہدیہ کرنے چاہئیں تاکہ ان کی ارواح کو سکون پہنچ سکیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک بزرگ نے اپنے مرحوم بھائی کو خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ کیا ہم لوگوں کی دعائیں آپ تک پہنچتی ہیں تو اس مرحوم نے  جواب دیا کہ ہاں خدا کی قسم یہ دعائیں ہمارے پاس نورانی لباس کی صورت میں پہنچتی ہیں  ہم ان کو پہن لیتے ہیں ۔لیکن ناظرین کتنے افسوس کی بات ہے کہ عموما لوگ اپنے مرحومین کو بھلا دیتے ہیں اور چند دن  دعا کرنے کے بعد ان کے لیے دعا بھی نہیں کی جاتی یہی عام مشاہدہ ہے۔جہاں تک بات ہے ارواح کی  کہ وہ مرنے کے بعد نقل و حرکت کر سکتی ہیں یا نہیں تو اس حوالے سے آپ کو ایسی روایات سناتے ہیں جن سے روحوں  کی آزادانہ نقل و حرکت کے بارے میں واضح ہوتا ہےحضر  ت سعید  بن حسیب رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہما باہم ملے ایک نے  دوسرے سے کہا کہ اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کرو تو مجھے خبر دینا کہ وہاں کیا  پیش آیا  پوچھا گیا کیا زندہ اور مردہ بھی ملتے ہیں فرمایا ہاں مسلمانوں کی روحیں  تو جنت میں ہو تی ہیں انہیں اختیار ہوتا ہے جہاں چاہیں جائیں ،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ۔جب مسلمان مرتا ہے تو اس کی راہ کھول دی جاتی ہے جہاں چاہیں جائے۔ناظرین کرام  روح  وہ امر ربی ہے جس کے حکم اور پروگرام کے ماتحت ہمارا وجود شروع ہوتا ہے۔ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ روح کا مادہ نور ہے اور یہ نور توانائی کی ایک قسم ہے جس طرح ملائکہ نور سے پیدا ہوئے اسی طرح روح بھی نور پیدا کی گئی ہے ۔ سائنسی تحقیق کے مطابق روح انسان کا وہ حصہ ہے جس کا موت بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ روح اللہ تعالی کے ایک فیصلے کا نام ہے اس سے زیادہ جانا نہیں جا سکتا ۔انسان کے پاس جو علم ہے وہ بہت ہی کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔جبکہ روح کو سمجھنے کے لئے زیادہ علم چاہیے جو مخلوق کی شان کے لائق نہیں ہے۔یاد رہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کے لیے   اللہ کے فضل و  کرم کا ذریعہ ہیں اور خدا کی رضا ان کی رضا میں ہے اسی لیے خدا نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا وہاں والدین کے ساتھ احسان کا بھی حکم دیا۔اللہ  تعالیٰ نے والدین کا بہت بڑا درجہ رکھا ہے اور آپ ﷺ نے والدین کے حقوق واضح کیے ہیں ۔ یہاں تک بھی آتا ہے کہ والدین کی رضا میں اللہ کی رضا اور والدین کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے ۔ اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا ہے کہ والدین کے سامنے اف تک بھی نہ کرو جہاں اللہ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک پر آجر رکھا ہے وہاں پر ان کی نافرمانی پر عذاب بھی رکھا ہے۔زندگی کے اندر والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم ہے اور مرنے کے بعد بھی ہمارا مذہب ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ والدین کے لئے ایصال ثواب کرتا رہے تاکہ ان کی کمی بیشی کو اللہ رب العزت معاف فرما کر ان کی بخشش کر دے۔ ان کے درجات کو آپ کی دعاؤں اور نیک اعمال کی وجہ سے بلند فرماتا رہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی والدین کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مرنے کے بعد ان کے ایصال ثواب کے لیے دعا اور نیک اعمال کا اہتمام کیا جائے ۔

دوستو امید کرتے ہیں کہ ہماری آج کی یہ تحریر آپ کو  پسند آئی ہوگی ۔اس کے متعلق اپنی قیمتی آرا کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک  ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین ۔